السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: شبهة من زعم أن لا كفارة في اليمين إذا كان حنثها طاعة باب: اس شخص کے شبہے کا بیان جس کا یہ دعویٰ ہے کہ جب قسم توڑنا باعثِ طاعت ہو تو قسم کا کوئی کفارہ نہیں۔
حدیث نمبر: 19861
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ "، إِلَّا مَا لَا يُعْبَأُ بِهِ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ قُلْتُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللهِ فَقَالَ: تَرَكَهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَكَانَ لِذَلِكَ أَهْلًا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ وَأَبُوهُ لَا يُعْرَفُ.حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تمام احادیث جو نبی ﷺ سے ہیں ان میں یہ ہے کہ ”وہ اپنی قسم کا کفارہ دے“ سوائے اس روایت کے جو قابلِ التفات نہیں۔
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کہا: یحییٰ بن سعید نے یحییٰ بن عبیداللہ سے روایت کی ہے، تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے بعد میں اسے چھوڑ دیا تھا اور وہ اسی لائق تھا۔ احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی احادیث منکر ہیں اور اس کا والد غیر معروف ہے۔