حدیث نمبر: 19813
عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ: " هُمُ الْأَخْسَرُونَ، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، قُلْتُ: مَا شَأْنِي؟ أَيَرَى فِيَّ شَيْئًا، فَجَلَسْتُ وَهُوَ يَقُولُ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَسْكُتَ، وَتَغَشَّانِي مَا شَاءَ اللهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نبی کریم ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ کعبہ کے سائے میں بیٹھے فرما رہے تھے: ”رب کعبہ کی قسم! وہ خسارہ پانے والے ہیں۔“ میں نے (اپنے جی میں) کہا: میری کیا حالت ہے؟ کیا نبی کریم ﷺ نے میرے اندر کوئی چیز دیکھی ہے؟ میں بیٹھ گیا اور آپ ﷺ (وہی بات) فرما رہے تھے، میں خاموش نہ رہ سکا اور مجھے کسی ایسی کیفیت نے ڈھانپ لیا جو اللہ نے چاہا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زیادہ مال والے، لیکن اس طرح اس طرح یعنی مال خرچ کرنے والے محفوظ رہیں گے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأيمان / حدیث: 19813
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»