السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: الحلف بالله عز وجل، أو باسم من أسماء الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کی، یا اللہ عزوجل کے ناموں میں سے کسی نام کی قسم کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19812
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِنَيْسَابُورَ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: " هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ، فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ، فَقُلْتُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " هُمُ الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمِنْ خَلْفِهِ، وَعَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس گیا، آپ ﷺ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”وہ خسارہ پا گئے، ربِ کعبہ کی قسم!“ فرماتے ہیں: میں آیا اور بیٹھ گیا لیکن ابھی جم کر بیٹھا بھی نہ تھا کہ اٹھ کھڑا ہوا۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ فدا، وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”امیر لوگ، لیکن جنہوں نے اپنے مال سے ایسے ایسے کیا، یعنی سامنے، پیچھے، دائیں اور بائیں خرچ کیا، لیکن یہ لوگ تھوڑے ہیں۔“