السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأيمان— قسموں کا بیان
باب: الحلف بالله عز وجل، أو باسم من أسماء الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کی، یا اللہ عزوجل کے ناموں میں سے کسی نام کی قسم کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، قَالَ: " وَاللهِ مَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ "، قَالَ: فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ، فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا، أَوْ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: لَا يُبَارَكُ اللهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا، فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: " مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ، لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ "، لَفْظُ حَدِيثِ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ، وَحَدِيثُ الطَّيَالِسِيُّ بِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، وَقُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ، وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اشعریوں کے ایک گروہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا تھا کہ آپ ﷺ ہمیں سواریاں مہیا کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہ کروں گا اور میرے پاس سواریاں نہیں جن پر تمہیں سوار کروں۔“ وہ کہتے ہیں: جتنی دیر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے۔ پھر آپ ﷺ کے پاس اونٹ لائے گئے، آپ ﷺ نے ہمارے لیے حکم فرمایا کہ تین اونٹ سفید کوہانوں والے دیے جائیں۔ جب ہم چلے تو ہم نے کہا یا بعض لوگوں نے کہا: اللہ ہمیں برکت نہ دے، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سواریاں طلب کرنے کے لیے آتے تھے۔ آپ ﷺ نے قسم اٹھائی کہ وہ ہم کو سوار نہ کریں گے لیکن بعد میں سواریاں مہیا فرما دیں۔ وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں سوار نہ کیا بلکہ اللہ نے تمہیں سوار کیا اور اگر میں قسم اٹھا لوں پھر اس سے بہتر کام دیکھوں تو وہ کر لیتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔“