السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: ما جاء في الرهان على الخيل وما يجوز منه وما لا يجوز باب: گھوڑوں پر شرط لگانے اور اس میں سے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، اس کے متعلق کیا مروی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَوْ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: أَصْبَحْتُ فِي الْحِجْرِ بَعْدَمَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ، فَلَمَّا أَسْفَرْنَا إِذَا فِينَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَجَعَلَ يَسْتَقْرِئُنَا رَجُلًا رَجُلًا، يَقُولُ: أَيْنَ صَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: يَقُولُ: هَهُنَا، حَتَّى أَتَى عَلَيَّ، فَقَالَ: أَيْنَ صَلَّيْتَ يَا ابْنَ عُبَيْدٍ، فَقُلْتُ: هَهُنَا، قَالَ: بَخٍ بَخٍ، مَا نَعْلَمُ صَلَاةً أَفْضَلَ عِنْدَ اللهِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ جَمَاعَةً يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَسَأَلُوهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَقَدْ رَاهَنَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ، يُقَالُ لَهَا سُبْحَةُ، فَجَاءَتْ سَابِقَةً ". قَالَ إِسْمَاعِيلُ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ: حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَوْ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ، وَرَوَاهُ أَسَدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا إِنْ صَحَّ، فَإِنَّمَا أَرَادَا إِذَا سَبَقَ أَحَدُ الْفَارِسَيْنِ صَاحِبَهُ، فَيَكُونُ السَّبَقُ مِنْهُ دُونَ صَاحِبِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.موسیٰ بن عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے فجر کی نماز پڑھ کر حجر میں صبح کی، جب خوب روشنی ہوگئی تو دیکھا وہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، وہ ایک ایک آدمی سے پوچھ رہے تھے: تم نے صبح کی نماز کہاں پڑھی؟ وہ سب سے پوچھ رہے تھے، یہاں تک کہ مجھ سے پوچھا: اے ابن عبید! تم نے نماز کہاں پڑھی؟ میں نے کہا: یہاں، وہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ ہم نہیں جانتے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز باجماعت ادا کرنے سے زیادہ کوئی فضیلت والی ہو، انہوں نے سوال کیا: اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ نبی ﷺ کے دور میں گھڑ دوڑ کی شرط لگاتے تھے؟ فرمایا: ہاں، بلکہ نبی ﷺ نے گھوڑے پر شرط لگائی اور آپ ﷺ جیت گئے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب ایک گھوڑے والا شرط جیت لے تو اس کے لیے ہوگی دوسرے کے لیے نہیں۔