السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: ما جاء في الرهان على الخيل وما يجوز منه وما لا يجوز باب: گھوڑوں پر شرط لگانے اور اس میں سے کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، اس کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19776
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا غُنْدَرٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضًا الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: " قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَنْ يُرَاهِنُنِي؟ قَالَ: فَقَالَ شَابٌّ: أَنَا، إِنْ لَمْ تَغْضَبْ، قَالَ: فَسَبَقَهُ، قَالَ: " فَرَأَيْتُ عَقِيصَتَيْ أَبِي عُبَيْدَةَ تَنْقُزَانِ، وَهُوَ خَلْفَهُ عَلَى فَرَسٍ عَرَبِيٍّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عیاض اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کون مجھ سے شرط لگائے گا؟ ایک جوان نے کہا: میں، اگر آپ غصہ نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں: مقابلہ بازی شروع ہوئی۔ میں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کے دونوں کانوں کے درمیان سے، جو تیز چلنے کی وجہ سے گویا اڑ رہی تھی، دیکھ رہا تھا اور وہ اس کے پیچھے عربی گھوڑے پر سوار تھے۔