السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: ما جاء في المسابقة بالعدو باب: دوڑ کا مقابلہ کروانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ جَارِيَةٌ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " تَقَدَّمُوا " فَتَقَدَّمُوا، ثُمَّ قَالَ: " تَعَالِ أُسَابِقْكِ "، فَسَابَقْتُهُ، فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلِيَّ "، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ، خَرَجْتُ أَيْضًا مَعَهُ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " تَقَدَّمُوا "، ثُمَّ قَالَ: " تَعَالِ أُسَابِقْكِ "، وَنَسِيتُ الَّذِي كَانَ، وَقَدْ حَمَلْتُ اللَّحْمَ "، فَقُلْتُ: وَكَيْفَ أُسَابِقُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ؟ فَقَالَ: " لَتَفْعَلِنَّ " فَسَابَقْتُهُ، فَسَبَقَنِي "، فَقَالَ: " هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ ".ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھیں اور چھوٹی عمر تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”آگے چلو، آگے چلو۔“ پھر فرمایا: ”آؤ دوڑ میں مقابلہ کریں“ تو میں آپ ﷺ سے دوڑ میں سبقت لے گئی، یعنی جیت گئی۔ اس کے بعد پھر ایک مرتبہ میں آپ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھی تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”آگے چلو۔“ پھر فرمایا: ”آؤ میں تیرے ساتھ دوڑ لگانا چاہتا ہوں۔“ لیکن میں پہلی والی دوڑ بھول چکی تھی اور میرا جسم بھاری ہو چکا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس حالت میں دوڑ میں مقابلہ بازی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ضرور ایسا کرو گی۔“ میں نے آپ ﷺ سے دوڑ میں مقابلہ بازی کی اور آپ ﷺ جیت گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس دوڑ کے مقابلے میں ہے۔“