کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: دوڑ کا مقابلہ کروانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19757
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ، فَأَقْبَلْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسُوقُ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يُسْبَقُ شَدًّا، فَجَعَلَ يَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسَابِقٍ إِلَى الْمَدِينَةِ، هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ؟ فَجَعَلَ يَقُولُ ذَلِكَ مِرَارًا، فَلَمَّا سَمِعْتُ كَلَامَهُ، قُلْتُ لَهُ: " أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا، وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا؟ "، قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ، وَأُمِّي، ائْذَنْ لِي، فَلْأُسَابِقِ الرَّجُلَ، قَالَ: " إِنْ شِئْتَ "، قَالَ: فَطَفَرْتُ، ثُمَّ عَدَوْتُ شَرَفًا، أَوْ شَرَفَيْنِ، ثُمَّ إِنِّي تَرَفَّعْتُ حِينَ لَحِقْتُهُ فَأَصْطَكُّهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقُلْتُ: سُبِقْتَ وَاللهِ، قَالَ: إِنْ أَظُنُّ، قَالَ: فَسَبَقْتُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ⦗٣١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
ایاس بن سلمہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی عضباء کے پیچھے بٹھا لیا، میں مدینہ کی طرف آرہا تھا اور ہم چل رہے تھے، انصار کا ایک آدمی جو بہت تیز دوڑتا تھا وہ کہہ رہا تھا: کوئی مدینہ تک دوڑ میں مقابلہ کرے گا؟ ہے کوئی مقابلہ کرنے والا؟ بار بار یہ کہہ رہا تھا، جب میں نے اس کی بات سنی تو کہا: کیا تو معزز کی عزت نہیں کرتا اور تو شریف سے نہیں ڈرتا؟ اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے علاوہ، کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ فدا ہوں، اگر آپ اجازت دیں تو میں اس آدمی سے دوڑ میں مقابلہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو کرلو۔“ کہتے ہیں: میں کودا، پھر میں ایک یا دو گھاٹیوں تک دوڑا پھر میں نے پیچھے سے مل کر اپنی برتری ظاہر کی اور اس کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھے، میں نے کہا: میں تجھ سے مقابلہ بازی کروں گا، کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ پھر میں نے مدینہ تک اس کے ساتھ دوڑ لگائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19757
درجۂ حدیث محدثین: متفق عليه
تخریج حدیث «متفق عليه»
حدیث نمبر: 19758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ جَارِيَةٌ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " تَقَدَّمُوا " فَتَقَدَّمُوا، ثُمَّ قَالَ: " تَعَالِ أُسَابِقْكِ "، فَسَابَقْتُهُ، فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلِيَّ "، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ، خَرَجْتُ أَيْضًا مَعَهُ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " تَقَدَّمُوا "، ثُمَّ قَالَ: " تَعَالِ أُسَابِقْكِ "، وَنَسِيتُ الَّذِي كَانَ، وَقَدْ حَمَلْتُ اللَّحْمَ "، فَقُلْتُ: وَكَيْفَ أُسَابِقُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ؟ فَقَالَ: " لَتَفْعَلِنَّ " فَسَابَقْتُهُ، فَسَبَقَنِي "، فَقَالَ: " هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھیں اور چھوٹی عمر تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”آگے چلو، آگے چلو۔“ پھر فرمایا: ”آؤ دوڑ میں مقابلہ کریں“ تو میں آپ ﷺ سے دوڑ میں سبقت لے گئی، یعنی جیت گئی۔ اس کے بعد پھر ایک مرتبہ میں آپ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھی تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”آگے چلو۔“ پھر فرمایا: ”آؤ میں تیرے ساتھ دوڑ لگانا چاہتا ہوں۔“ لیکن میں پہلی والی دوڑ بھول چکی تھی اور میرا جسم بھاری ہو چکا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس حالت میں دوڑ میں مقابلہ بازی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ضرور ایسا کرو گی۔“ میں نے آپ ﷺ سے دوڑ میں مقابلہ بازی کی اور آپ ﷺ جیت گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس دوڑ کے مقابلے میں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19758
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 19759
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَابَقْتُهُ، فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلِيَّ، فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ، سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي، فَقَالَ: " هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ ". وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابوسلمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھیں اور دوڑ میں مقابلہ کیا اور میں جیت گئی۔ جب میرا جسم بھاری ہو گیا، پھر دوڑ میں مقابلہ کیا تو نبی ﷺ جیت گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ پہلی دوڑ کے عوض میں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السبق والرمي / حدیث: 19759
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»