السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السبق والرمي— مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان
باب: ما جاء في المسابقة بالعدو باب: دوڑ کا مقابلہ کروانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ، فَأَقْبَلْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسُوقُ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لَا يُسْبَقُ شَدًّا، فَجَعَلَ يَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسَابِقٍ إِلَى الْمَدِينَةِ، هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ؟ فَجَعَلَ يَقُولُ ذَلِكَ مِرَارًا، فَلَمَّا سَمِعْتُ كَلَامَهُ، قُلْتُ لَهُ: " أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا، وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا؟ "، قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ، وَأُمِّي، ائْذَنْ لِي، فَلْأُسَابِقِ الرَّجُلَ، قَالَ: " إِنْ شِئْتَ "، قَالَ: فَطَفَرْتُ، ثُمَّ عَدَوْتُ شَرَفًا، أَوْ شَرَفَيْنِ، ثُمَّ إِنِّي تَرَفَّعْتُ حِينَ لَحِقْتُهُ فَأَصْطَكُّهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقُلْتُ: سُبِقْتَ وَاللهِ، قَالَ: إِنْ أَظُنُّ، قَالَ: فَسَبَقْتُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ⦗٣١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.ایاس بن سلمہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے، انہوں نے حدیث کو ذکر کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی عضباء کے پیچھے بٹھا لیا، میں مدینہ کی طرف آرہا تھا اور ہم چل رہے تھے، انصار کا ایک آدمی جو بہت تیز دوڑتا تھا وہ کہہ رہا تھا: کوئی مدینہ تک دوڑ میں مقابلہ کرے گا؟ ہے کوئی مقابلہ کرنے والا؟ بار بار یہ کہہ رہا تھا، جب میں نے اس کی بات سنی تو کہا: کیا تو معزز کی عزت نہیں کرتا اور تو شریف سے نہیں ڈرتا؟ اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے علاوہ، کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ فدا ہوں، اگر آپ اجازت دیں تو میں اس آدمی سے دوڑ میں مقابلہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو کرلو۔“ کہتے ہیں: میں کودا، پھر میں ایک یا دو گھاٹیوں تک دوڑا پھر میں نے پیچھے سے مل کر اپنی برتری ظاہر کی اور اس کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھے، میں نے کہا: میں تجھ سے مقابلہ بازی کروں گا، کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ پھر میں نے مدینہ تک اس کے ساتھ دوڑ لگائی۔