❮
❯
حدیث نمبر: 19742
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّرَّاجِ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ مَوْلَى أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلِلْوَلَدِ عَلَيْنَا حَقٌّ، كَحَقِّنَا عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: " نَعَمْ حَقُّ الْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ أَنْ يُعَلِّمَهُ الْكِتَابَةَ، وَالسِّبَاحَةَ، وَالرَّمْيَ، وَأَنْ يُوَرِّثَهُ طَيِّبًا "، هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ، عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ هَذَا مِنْ شُيُوخِ بَقِيَّةَ، مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُمَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اولاد کے بھی والدین پر حق ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اولاد کا حق والدین پر یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کتابت، تیراکی اور تیر اندازی سکھائے اور اس کے لیے پاکیزہ ترکہ چھوڑے۔“
یہ حدیث ضعیف ہے، یہ عیسیٰ بن ابراہیم ہاشمی بقیہ کے شیوخ میں سے ہے، منکر الحدیث ہے، یحییٰ بن معین، بخاری اور دیگر نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19742
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»