السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: التحريض على الرمي باب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19741
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنَ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَرْقَدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ الْجَزَرِيَّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ - يَعْنِي: ابْنَ بُخْتٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَجَابِرَ بْنَ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَرْتَمِيَانِ، فَمَلَّ أَحَدُهُمَا فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ: أَجَلَسْتَ؟ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ شَيْءٍ لَيْسَ مِنْ ذِكْرِ اللهِ، فَهُوَ سَهْوٌ وَلَهْوٌ، إِلَّا أَرْبَعًا: مَشْيَ الرَّجُلِ بَيْنَ الْغَرَضَيْنِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَتَعَلُّمَهُ السِّبَاحَةَ، وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ "، تَابَعَهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْجَزَرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ اور جابر بن عمیر رضی اللہ عنہما دونوں کو دیکھا کہ وہ تیر اندازی کر رہے تھے، ان میں سے ایک تھک کر بیٹھ گیا تو دوسرے نے اپنے ساتھی سے کہا: کیا آپ بیٹھ گئے ہیں؟ کیا آپ نے نبی ﷺ سے سنا نہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ چیز جس میں اللہ کا ذکر نہیں وہ کھیل تماشا ہے، سوائے چار چیزوں کے: آدمی کا نشانہ بازی کرنا، گھوڑے کو سدھانا، گھوڑ سواری کرنا اور اپنی بیوی سے چھیڑ چھاڑ کرنا۔“