❮
❯
حدیث نمبر: 19729
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَمَاسَةَ، أَنَّ فَقِيمًا اللَّخْمِيَّ، قَالَ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: تَخْتَلِفُ بَيْنَ هَذَيْنِ ⦗٢٣⦘ الْغَرَضَيْنِ، وَأَنْتَ كَبِيرٌ، يَشُقُّ عَلَيْكَ ذَلِكَ، فَقَالَ عُقْبَةُ: لَوْلَا كَلَامٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُعَانِهِ قَالَ: الْحَارِثُ، فَقَالَ ابْنُ شَمَاسَةَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: " إِنَّهُ مَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ، ثُمَّ إِنَّهُ تَرَكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا، أَوْ قَدْ عَصَى ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن شماسہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فقیم لخمی نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ان دو نشانوں کے درمیان آتے جاتے ہیں حالانکہ آپ بوڑھے ہیں، یہ آپ پر مشکل ہوتا ہے۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں نے یہ کلام رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہوتا تو میں یہ مشقت نہ اٹھاتا۔ حارث کہتے ہیں کہ ابن شماسہ رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ فرماتے ہیں کہ (نبی کریم ﷺ نے فرمایا): ”تیر اندازی جان لینے کے بعد یا سیکھ لینے کے بعد، جس نے اس کو چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں“ یا فرمایا: ”اس نے نافرمانی کی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19729
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1919»