السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما حرم المشركون على أنفسهم باب: مشرکین نے جن چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا ان کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ} [الأنعام: ١٣٦] وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا، قَالَ: جَعَلُوا لِلَّهِ مِنْ ثَمَرَاتِهِمْ وَمَالِهِمْ نَصِيبًا، وَلِلشَّيْطَانِ وَالْأَوْثَانِ نَصِيبًا، فَإِنْ سَقَطَ مِنْ ثَمَرِ مَا جَعَلُوا لِلَّهِ فِي نَصِيبِ الشَّيْطَانِ تَرَكُوهُ، وَإِنْ سَقَطَ مِمَّا جَعَلُوا لِلشَّيْطَانِ فِي نَصِيبِ اللهِ الْتَقَطُوهُ وَحَفِظُوهُ، وَرَدُّوهُ إِلَى نَصِيبِ الشَّيْطَانِ، وَهَكَذَا فِي سَقْيِ الْمَاءِ، قَالَ: وَأَمَّا مَا جَعَلُوا لِلشَّيْطَانِ مِنَ الْأَنْعَامِ، فَهُوَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ} [المائدة: ١٠٣]. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَيُقَالُ: نَزَلَ فِيهِمْ {قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللهَ حَرَّمَ هَذَا فَإِنْ شَهِدُوا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ} [الأنعام: ١٥٠] فَرَدَّ عَلَيْهِمْ مَا أَخْرَجُوا، وَأَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِمْ مَا حَرَّمُوا بِتَحْرِيمِهِمْ، وَذَكَرَ سَائِرَ الْآيَاتِ الَّتِي وَرَدَتْ فِي ذَلِكَ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول: ﴿وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا﴾ [سورة الأنعام: 136] ”اور انہوں نے اپنی کھیتیوں اور چوپایوں میں سے اللہ کے لیے حصے مقرر کر دیے اور انہوں نے اپنے گمان کے مطابق کہہ دیا: یہ اللہ کے لیے اور یہ ہمارے شرکا کے لیے۔“
«جَعَلُوا لِلَّهِ» [سورة الرعد: 16] اپنے مالوں اور پھلوں سے حصہ مقرر کر دیا۔ اسی طرح شیطانوں اور بتوں کے نام پر بھی مقرر کر دیا۔ اب اگر اللہ کے لیے مقرر شدہ حصہ میں کمی آ جاتی تو اس کو چھوڑ دیتے۔ اگر شیطان کے مقرر کردہ حصہ میں کمی آتی تو اللہ کے حصہ سے اس کمی کو پورا کر لیتے، اسی طرح پانی پلانے کے بارے میں کرتے اور اسی طرح جو جانوروں کے حصہ میں مقرر کرتے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ﴾ [سورة المائدة: 103] ”اللہ نے کوئی بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام مقرر نہیں کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: ﴿قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَذَا فَإِنْ شَهِدُوا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ﴾ [سورة الأنعام: 150] ”کہہ دیجیے: تم گواہ لاؤ جو یہ گواہی دیں کہ یہ اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ اگر وہ گواہی دے بھی دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیں۔“
یہاں اس بات کا رد ہے جو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، اللہ نے ان پر حرام قرار نہیں دیا۔