السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما حرم المشركون على أنفسهم باب: مشرکین نے جن چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا ان کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَآنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٧⦘ وَعَلَيَّ أَطْمَارٌ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " مِنْ أِيِّ الْمَالِ "، قَالَ: قُلْتُ: قَدْ آتَانِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الشَّاءِ وَالْإِبِلِ، قَالَ: " فَلْتُرَ نِعْمَةُ اللهِ وَكَرَامَتُهُ عَلَيْكَ "، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُكَ وَافِيَةً آذَانُهَا؟ "، قَالَ: " وَهَلْ تُنْتَجُ إِلَّا كَذَلِكَ؟ "، وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: " فَلَعَلَّكَ تَأْخُذُ مُوسَاكَ، فَتَقْطَعُ أُذُنَ بَعْضِهَا، فَتَقُولُ: هَذِهِ بَحِيرٌ وَتَشُقُّ أُذُنَ أُخْرَى، فَتَقُولُ: هَذِهِ صُرُمٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ كُلَّ مَا آتَاكَ اللهُ حِلٌّ، وَإِنَّ مُوسَى اللهِ أَحَدُّ، وَسَاعِدَ اللهِ أَشَدُّ "، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ إِنْ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ، فَلَمْ يَقْرِنِي، وَلَمْ يُضَيِّفْنِي، ثُمَّ مَرَّ بَعْدَ ذَلِكَ، أَقْرِيهِ أَمْ أَجْزِيهِ؟ قَالَ: " بَلْ أَقْرِهِ ".سیدنا ابواحوص جشمی رضی اللہ عنہ اپنے والد (سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے اوپر پرانے کپڑے تھے، اس حالت میں نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون سا مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: بکریاں اور اونٹ وغیرہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کی نعمتوں اور فضل کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اونٹنی بچے جنم دیتی ہے تو کیا ان کے کان پورے ہوتے ہیں؟“ وہ کہتے ہیں: جی ہاں، اسی طرح ہی ہوتا ہے۔ (لیکن ابھی وہ مسلمان نہ ہوئے تھے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنا استرہ لے کر بعض کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو: یہ «بَحِيرَةٌ» ”بحیرہ“ ہے، اور بعض کے کانوں کو پھاڑ دیتے ہو اور کہتے ہو: یہ «صُرُمٌ» ”صرام“ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح نہ کرو، جو اللہ نے تمہیں دیا ہے وہ حلال ہے اور اللہ کا ہتھیار زیادہ تیز ہے اور اللہ کی مدد زیادہ سخت ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اے محمد ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ایک آدمی کے پاس جاؤں اور وہ میری مہمان نوازی نہیں کرتا لیکن بعد میں وہی شخص میرے پاس آتا ہے تو میں بدلہ لوں یا مہمان نوازی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ مہمان نوازی کرو۔“