کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مشرکین نے جن چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 19709
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: حَرَّمَ الْمُشْرِكُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ أَشْيَاءَ أَبَانَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّهَا لَيْسَتْ حَرَامًا بِتَحْرِيمِهِمْ، وَذَلِكَ مِثْلُ الْبَحِيرَةِ وَالسَّائِبَةِ وَالْوَصِيلَةِ وَالْحَامِ كَانُوا يُنْزِلُونَهَا فِي الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ كَالْعِتْقِ، فَيُحَرِّمُونَ أَلْبَانَهَا وَلُحُومَهَا وَمِلْكَهَا، وَسَاقَ الْكَلَامَ فِيهِ، كَمَا هُوَ مَنْقُولٌ فِي الْمَبْسُوطِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مشرکین نے اپنے مالوں میں سے کچھ چیزیں اپنے اوپر حرام کر لی تھیں، جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے واضح فرما دیا کہ وہ ان کے حرام کرنے سے حرام نہیں ہو جاتیں، اور یہ جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام ہیں، وہ اونٹوں اور بکریوں میں انہیں آزاد کرنے کی طرح (ایک درجہ) دیتے تھے، اور پھر ان کے دودھ، ان کے گوشت اور ان کی ملکیت کو حرام قرار دے لیتے تھے۔“ اور انہوں نے اس بارے میں (پوری) گفتگو ذکر کی، جیسا کہ وہ (کتاب) المبسوط میں منقول ہے۔
حدیث نمبر: 19709
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَبِي وَشُعَيْبٌ، قَالَا: أنبأ اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ " قَالَ سَعِيدٌ: السَّائِبَةُ الَّتِي تُسَيَّبُ، فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ، وَالْبَحِيرَةُ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ، فَلَا يَحْلِبُهَا أَحَدٌ، وَالْوَصِيلَةُ النَّاقَةُ الْبِكْرُ، تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الْإِبِلِ بِأُنْثَى، ثُمَّ تُثَنِّي بَعْدُ بِأُنْثَى، فَكَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِلطَّوَاغِيتِ، يَدْعُونَهَا الْوَصِيلَةَ، إِنْ وَصَلَتْ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى، وَالْحَامُ فَحْلُ الْإِبِلِ، يَضْرِبُ الْعَشْرَ مِنَ الْإِبِلِ، فَإِذَا قَضَى ضِرَابَهُ جَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ، فَأَعْفَوْهُ مِنَ الْحَمْلِ، فَلَمْ يَحْمِلُوا عَلَيْهِ شَيْئًا، فَسَمَّوْهُ الْحَامَ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَاهُ ابْنُ الْهَادِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا، وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑے۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «السَّائِبَةُ» وہ ہوتا ہے جس پر سواری نہ کی جائے اور «الْبَحِيرَةُ» وہ ہے جس کا دودھ صرف بتوں کے لیے دوہا جائے۔ «الْوَصِيلَةُ» وہ اونٹنی جو پہلی بار مادہ جنے اور دوبارہ پھر مادہ ہی کو جنم دے تو اس کو بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ «الْحَامِي» وہ سانڈ جس کی جفتی سے دس بچے ہو جائیں تو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور سواری نہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 19710
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَآنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗١٧⦘ وَعَلَيَّ أَطْمَارٌ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " مِنْ أِيِّ الْمَالِ "، قَالَ: قُلْتُ: قَدْ آتَانِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الشَّاءِ وَالْإِبِلِ، قَالَ: " فَلْتُرَ نِعْمَةُ اللهِ وَكَرَامَتُهُ عَلَيْكَ "، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُكَ وَافِيَةً آذَانُهَا؟ "، قَالَ: " وَهَلْ تُنْتَجُ إِلَّا كَذَلِكَ؟ "، وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: " فَلَعَلَّكَ تَأْخُذُ مُوسَاكَ، فَتَقْطَعُ أُذُنَ بَعْضِهَا، فَتَقُولُ: هَذِهِ بَحِيرٌ وَتَشُقُّ أُذُنَ أُخْرَى، فَتَقُولُ: هَذِهِ صُرُمٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ كُلَّ مَا آتَاكَ اللهُ حِلٌّ، وَإِنَّ مُوسَى اللهِ أَحَدُّ، وَسَاعِدَ اللهِ أَشَدُّ "، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ إِنْ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ، فَلَمْ يَقْرِنِي، وَلَمْ يُضَيِّفْنِي، ثُمَّ مَرَّ بَعْدَ ذَلِكَ، أَقْرِيهِ أَمْ أَجْزِيهِ؟ قَالَ: " بَلْ أَقْرِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابواحوص جشمی رضی اللہ عنہ اپنے والد (سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے اوپر پرانے کپڑے تھے، اس حالت میں نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون سا مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: بکریاں اور اونٹ وغیرہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کی نعمتوں اور فضل کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اونٹنی بچے جنم دیتی ہے تو کیا ان کے کان پورے ہوتے ہیں؟“ وہ کہتے ہیں: جی ہاں، اسی طرح ہی ہوتا ہے۔ (لیکن ابھی وہ مسلمان نہ ہوئے تھے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنا استرہ لے کر بعض کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو: یہ «بَحِيرَةٌ» ”بحیرہ“ ہے، اور بعض کے کانوں کو پھاڑ دیتے ہو اور کہتے ہو: یہ «صُرُمٌ» ”صرام“ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح نہ کرو، جو اللہ نے تمہیں دیا ہے وہ حلال ہے اور اللہ کا ہتھیار زیادہ تیز ہے اور اللہ کی مدد زیادہ سخت ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اے محمد ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ایک آدمی کے پاس جاؤں اور وہ میری مہمان نوازی نہیں کرتا لیکن بعد میں وہی شخص میرے پاس آتا ہے تو میں بدلہ لوں یا مہمان نوازی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ مہمان نوازی کرو۔“
حدیث نمبر: 19711
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ} [الأنعام: ١٣٦] وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا، قَالَ: جَعَلُوا لِلَّهِ مِنْ ثَمَرَاتِهِمْ وَمَالِهِمْ نَصِيبًا، وَلِلشَّيْطَانِ وَالْأَوْثَانِ نَصِيبًا، فَإِنْ سَقَطَ مِنْ ثَمَرِ مَا جَعَلُوا لِلَّهِ فِي نَصِيبِ الشَّيْطَانِ تَرَكُوهُ، وَإِنْ سَقَطَ مِمَّا جَعَلُوا لِلشَّيْطَانِ فِي نَصِيبِ اللهِ الْتَقَطُوهُ وَحَفِظُوهُ، وَرَدُّوهُ إِلَى نَصِيبِ الشَّيْطَانِ، وَهَكَذَا فِي سَقْيِ الْمَاءِ، قَالَ: وَأَمَّا مَا جَعَلُوا لِلشَّيْطَانِ مِنَ الْأَنْعَامِ، فَهُوَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ} [المائدة: ١٠٣]. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَيُقَالُ: نَزَلَ فِيهِمْ {قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللهَ حَرَّمَ هَذَا فَإِنْ شَهِدُوا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ} [الأنعام: ١٥٠] فَرَدَّ عَلَيْهِمْ مَا أَخْرَجُوا، وَأَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِمْ مَا حَرَّمُوا بِتَحْرِيمِهِمْ، وَذَكَرَ سَائِرَ الْآيَاتِ الَّتِي وَرَدَتْ فِي ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول: ﴿وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا﴾ [سورة الأنعام: 136] ”اور انہوں نے اپنی کھیتیوں اور چوپایوں میں سے اللہ کے لیے حصے مقرر کر دیے اور انہوں نے اپنے گمان کے مطابق کہہ دیا: یہ اللہ کے لیے اور یہ ہمارے شرکا کے لیے۔“
«جَعَلُوا لِلَّهِ» [سورة الرعد: 16] اپنے مالوں اور پھلوں سے حصہ مقرر کر دیا۔ اسی طرح شیطانوں اور بتوں کے نام پر بھی مقرر کر دیا۔ اب اگر اللہ کے لیے مقرر شدہ حصہ میں کمی آ جاتی تو اس کو چھوڑ دیتے۔ اگر شیطان کے مقرر کردہ حصہ میں کمی آتی تو اللہ کے حصہ سے اس کمی کو پورا کر لیتے، اسی طرح پانی پلانے کے بارے میں کرتے اور اسی طرح جو جانوروں کے حصہ میں مقرر کرتے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ﴾ [سورة المائدة: 103] ”اللہ نے کوئی بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام مقرر نہیں کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: ﴿قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَذَا فَإِنْ شَهِدُوا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ﴾ [سورة الأنعام: 150] ”کہہ دیجیے: تم گواہ لاؤ جو یہ گواہی دیں کہ یہ اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ اگر وہ گواہی دے بھی دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیں۔“
یہاں اس بات کا رد ہے جو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، اللہ نے ان پر حرام قرار نہیں دیا۔
«جَعَلُوا لِلَّهِ» [سورة الرعد: 16] اپنے مالوں اور پھلوں سے حصہ مقرر کر دیا۔ اسی طرح شیطانوں اور بتوں کے نام پر بھی مقرر کر دیا۔ اب اگر اللہ کے لیے مقرر شدہ حصہ میں کمی آ جاتی تو اس کو چھوڑ دیتے۔ اگر شیطان کے مقرر کردہ حصہ میں کمی آتی تو اللہ کے حصہ سے اس کمی کو پورا کر لیتے، اسی طرح پانی پلانے کے بارے میں کرتے اور اسی طرح جو جانوروں کے حصہ میں مقرر کرتے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ﴾ [سورة المائدة: 103] ”اللہ نے کوئی بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام مقرر نہیں کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: ﴿قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَذَا فَإِنْ شَهِدُوا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ﴾ [سورة الأنعام: 150] ”کہہ دیجیے: تم گواہ لاؤ جو یہ گواہی دیں کہ یہ اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ اگر وہ گواہی دے بھی دیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیں۔“
یہاں اس بات کا رد ہے جو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، اللہ نے ان پر حرام قرار نہیں دیا۔