السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يحل للمضطر من مال الغير باب: مجبور شخص کے لیے دوسرے کے مال میں سے کیا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 19661
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الزَّكِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الْمُنْعِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْفَرَاوِيُّ قَالَ: أَخْبَرنَا أَبُو الْمَعَالِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهقِيُّ، وَأَنْبَأَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَشْيَاخِنَا عَنْ زَاهِرِ بْنِ طَاهِرٍ الشَّحَّامِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ:.حافظ ثناء اللہ
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور مجھے سخت بھوک لگی ہوئی تھی، میں ایک باغ میں داخل ہوا اور پھل دار شاخ کو پکڑ کر اس سے کھالیا اور کچھ اپنے کپڑے میں ڈال لیا، باغ والا آگیا، اس نے مجھے مارا بھی اور مجھ سے توڑا ہوا پھل بھی چھین لیا، راوی فرماتے ہیں کہ پھر ہم دونوں (باغ والا اور عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ) نبی ﷺ کی طرف چلے اور آپ ﷺ کے سامنے واقعے کا تذکرہ کیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ نہیں جانتا تھا تو آپ اس کو سکھا دیتے اور آپ نے اس کو بھوک کی وجہ سے کھلایا بھی نہیں۔“ آپ ﷺ نے مجھے ایک وسق جو کا حکم دیا۔