السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: تحريم أكل مال الغير بغير إذنه باب: کسی دوسرے کا مال اس کی اجازت کے بغیر کھانے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19644
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُحْتَلَبَ الْمَوَاشِي إِلَّا بِإِذْنِ أَهْلِهَا، قَالَ: " يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ الَّتِي فِيهَا طَعَامُهُ فَيُنْتَثَلَ مَا فِيهَا، فَإِنَّمَا ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ مِثْلُ مَا فِي مَشَارِبِهِمْ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَأَيُّوبَ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھر والوں کی اجازت کے بغیر مویشی دوہنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے گودام میں، جس میں اس کا کھانا رکھا ہو، کوئی آ کر جو کچھ اس میں ہے نکال لے جائے؟ تو ان کے مویشیوں کے تھن ان کے گوداموں کی مانند ہیں۔“