السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ذكاة ما في بطن الذبيحة باب: ذبح کیے گئے جانور کے پیٹ میں موجود بچے کے ذبیحے (ذکاۃ) کا بیان۔
قَالَ: وَثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كُلْهُ أَشْعَرَ أَوْ لَمْ يُشْعِرْ إِنْ لَمْ تَقْذَرْهُ يَعْنِي الْجَنِينَ. قَالَ يَعْقُوبُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: لَا يَكُونُ ذَكَاةُ نَفْسٍ ذَكَاةَ نَفْسَيْنِ. قَالَ يَعْقُوبُ: حَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُثْمَانَ، أَنْبَأَ الْبَتِّيُّ قَالَ: كَانَ حَمَّادٌ إِذَا قَالَ بِرَأْيهِ أَصَابَ، وَإِذَا قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ أَخْطَأَ. وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَعَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، وَعَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَنَافِعٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَعِكْرِمَةَ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ نَحْوَ قَوْلِنَا.ابراہیم رحمہ اللہ جنین کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اسے کھا لو، خواہ اس کے بال اگے ہوں یا نہ اگے ہوں، اگر تمہیں اس سے گھن نہ آئے۔“
یعقوب کہتے ہیں: حماد کے واسطے سے ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ایک جان کا ذبح دو جانوں کا ذبح نہیں ہوتا۔“
یعقوب کہتے ہیں: ہمارے بعض ساتھیوں نے عثمان بن عثمان کے واسطے سے بیان کیا کہ بتی نے فرمایا: ”حماد جب اپنی رائے سے بات کہتے تو درست کہتے، اور جب کہتے کہ ابراہیم نے کہا ہے تو خطا کرتے۔“
سعید بن مسیب، قاسم بن محمد، حسن بصری، عامر شعبی، عطاء، طاؤس، مجاہد، نافع، عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، عکرمہ اور عمرو بن دینار رحمہم اللہ سے بھی ہمارے قول کی طرح منقول ہے۔