السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ذكاة ما في بطن الذبيحة باب: ذبح کیے گئے جانور کے پیٹ میں موجود بچے کے ذبیحے (ذکاۃ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 19498
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ قَابُوسَ، قَالَ: ذَبَحْتُ فِي الْحِيِّ بَقَرَةً فَوَجَدْنَا فِي بَطْنِهَا جَنِينًا فَشَوَيْنَاهُ وَقَدِمْنَا إِلَى أَبِي ظَبْيَانَ فَتَنَاوَلَ لُقْمَةً مِنْهُ فَقَالَ: هَذَا الَّذِي حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ. وَرَوَاهُ أَيْضًا طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا. وَرُوِّينَا عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ فِي بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ: هُوَ الْجَنِينُ ذَكَاتُهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ.حافظ ثناء اللہ
قابوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محلے میں ایک گائے ذبح کی تو ہم نے اس کے پیٹ میں جنین پایا، ہم نے اسے بھونا اور ابو ظبیان رحمہ اللہ کے پاس لائے، انہوں نے اس میں سے ایک لقمہ لیا اور فرمایا: ”یہ وہی ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں بیان کیا تھا کہ یہ «بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ» میں سے ہے۔“
عکرمہ رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے «بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ» کے بارے میں فرمایا: ”اس سے مراد جنین ہے، اس کی ماں کا ذبح ہی اس کا ذبح ہے۔“