السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ذكاة ما في بطن الذبيحة باب: ذبح کیے گئے جانور کے پیٹ میں موجود بچے کے ذبیحے (ذکاۃ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 19497
وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي ثُمَامَةَ الْبَصْرِيِّ سَمِعَ حَنْظَلَةَ أَبَا خَلْدَةَ قَالَ: قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: يَا حَنْظَلَةُ أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِيمَا أَبْهَمَ عَلَيْهِ الرَّحِمُ إِذَا تَمَّ خَلْقُهُ وَنَبَتَ شَعْرُهُ فَذَكَاتُهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ.حافظ ثناء اللہ
حنظلہ ابو خلدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے حنظلہ! تمہارے لیے «بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ» حلال کیے گئے ہیں، اور یہ (آیت) اس (جنین) کے بارے میں نازل ہوئی ہے جسے رحم نے چھپا رکھا ہو، جب اس کی خلقت مکمل ہو جائے اور اس کے بال اگ آئیں تو اس کی ماں کا ذبح ہی اس کا ذبح ہے۔“