السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في المصبورة باب: مصبورہ (وہ جانور جسے باندھ کر نشانہ بنایا گیا ہو) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19483
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَإِذَا طَيْرٌ أَوْ دَجَاجَةٌ يَرْمُونَهَا، فَلَمَّا رَأَوَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَفَرَّقُوا، فَقَالَ: لَعَنَ اللهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ هُشَيْمٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یحییٰ بن سعید کے پاس آئے تو ان کے بیٹے مرغی کو باندھ کر اسے تیر مار رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مرغی کو کھولا اور بچے کو لے کر آئے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے بچوں کو ڈانٹو، یہ اس پرندے کو باندھ کر قتل کر رہے تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ”جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع کیا ہے“، اگر تم ذبح کرنا چاہتے ہو تو کر لو۔