السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في المصبورة باب: مصبورہ (وہ جانور جسے باندھ کر نشانہ بنایا گیا ہو) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19482
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ فَرَأَى فِتْيَانًا أَوْ غِلْمَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ کسی پرندے یا مرغی کو باندھ کر تیر مارے جا رہے تھے۔ جب انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو وہ منتشر ہو گئے۔ ”جس نے یہ کیا ہے اللہ اس پر لعنت کرے؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا کرنے والے پر لعنت کی ہے۔“