السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في المصبورة باب: مصبورہ (وہ جانور جسے باندھ کر نشانہ بنایا گیا ہو) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19484
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ أَبُو عَلِيٍّ ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا ⦗٥٦١⦘ إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ الْعَاصِ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِيهِ رَابِطٌ دَجَاجَةً وَهُوَ يَرْمِيهَا، فَمَشَى إِلَى الدَّجَاجَةِ فَحَلَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا وَبِالْغُلَامِ، فَقَالَ لِيَحْيَى: ازْجُرُوا غُلَامَكُمْ هَذَا عَنْ أَنْ يَصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ عَلَى الْقَتْلِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهِيمَةٌ، وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَذْبَحُوهَا فَاذْبَحُوهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یحییٰ بن سعید کے پاس آئے تو ان کے بیٹے مرغی کو باندھ کر اسے تیر مار رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مرغی کو کھولا اور بچے کو لے کر آئے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے بچوں کو ڈانٹو، یہ اس پرندے کو باندھ کر قتل کر رہے تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ”جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع کیا ہے“، اگر تم ذبح کرنا چاہتے ہو تو کر لو۔