السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في المصبورة باب: مصبورہ (وہ جانور جسے باندھ کر نشانہ بنایا گیا ہو) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19481
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَالْمَصْبُورَةُ الشَّاةُ تُرْبَطُ ثُمَّ تُرْمَى بِالنَّبْلِ. وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: هُوَ الطَّائِرُ أَوْ غَيْرُهُ مِنْ ذَوَاتِ الرُّوحِ يُصْبَرُ حَيًّا ثُمَّ يُرْمَى حَتَّى يَقْتُلَ، وَأَصْلُ الصَّبْرِ الْحَبْسُ..حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور مصبورہ وہ بکری ہے جسے باندھ دیا جائے، پھر اس پر تیر برسائے جائیں۔“
اور ابو عبید رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس سے مراد پرندہ یا کوئی اور جان دار ہے جسے زندہ باندھ کر رکھا جائے، پھر اس پر تیر مارے جائیں یہاں تک کہ اسے مار ڈالا جائے، اور صبر کا اصل معنی روکنا (اور قید کرنا) ہے۔“...
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُ الدَّجَاجَ فَدَعَانِي فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ نَتِنًا، قَالَ: ادْنُهْ فَكُلْ فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ أَيُّوبَ.حافظ ثناء اللہ
ہشام بن زید کہتے ہیں: میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس آیا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بچوں کو دیکھا کہ مرغی کو باندھ کر تیر مار رہے ہیں تو فرمانے لگے: ”رسول اللہ ﷺ نے جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع کیا ہے۔“