السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الضب باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَجَاءَ ابْنٌ لَهُ أُرَاهُ الْقَاسِمَ، قَالَ: " أَصَبْتَ الْيَوْمَ مِنْ حَاجَتِكَ شَيْئًا؟ " فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: مَا حَاجَتُهُ؟ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ غُلَامًا آكَلَ لِضَبٍّ مِنْهُ ". فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَوَلَيْسَ بِحَرَامٍ؟ فَسَأَلَ قَالَ: وَمَا حَرَّمَهُ؟ قَالَ: أَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُهُ؟ قَالَ: أَوَلَيْسَ الرَّجُلُ يَكْرَهُ الشَّيْءَ وَلَيْسَ بِحَرَامٍ؟ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: إِنَّ مُحَرِّمَ الْحَلَالِ كَمُسْتَحِلِّ الْحَرَامِ.ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کا بیٹا قاسم آیا، اس نے کہا: ”آج کی ضرورت یعنی کھانے کے لیے میں نے کچھ پا لیا ہے؟“ تو لوگوں نے پوچھا: ان کی کیا ضرورت تھی؟ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے کسی لڑکے کو گوہ کھاتے نہیں دیکھا تو بعض لوگوں نے کہا: کیا یہ صرف حرام نہیں؟ اس نے پوچھا: کس نے اس کو حرام قرار دیا؟ کہنے لگے: کیا رسول اللہ ﷺ اس کو ناپسند نہ کرتے تھے؟ وہ فرماتے ہیں: بعض وقت انسان کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے لیکن وہ حرام نہیں ہوتی؟ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حلال کو حرام کرنا ایسے ہی ہے جیسے حرام کو حلال کرنا ہے۔