السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الضب باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19429
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدَنَا خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرٍّ سَمْرَاءَ مُلَيَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ ". فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ، فَسَأَلَهُ فِي أِيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟ قَالَ: كَانَ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ. فَقَالَ: " ارْفَعْهُ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں پسند کرتا ہوں کہ میرے پاس گندم کی سفید روٹی گھی اور دودھ سے تر موجود ہو۔“ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے لا کر نبی ﷺ کی خدمت میں یہ پیش کر دی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ گھی کہاں رکھا گیا تھا؟“ تو اس نے کہا: گوہ کے بنے ہوئے چمڑے کی تھیلی میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو لے جاؤ میں نہیں کھاتا۔“