السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الضب باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَشُكُّ قَالَ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَوْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُمَا دَخَلَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللهِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ فَقَالَ: " لَا وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ". قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ..سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں یا سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما دونوں نبی ﷺ کے پاس سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے تو بھنی ہوئی گوہ ان کے سامنے پیش کی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر موجود عورتوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ کو بتاؤ کہ یہ گوہ ہے جس کو آپ کھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔“ تو آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھا لیا۔ میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ حرام ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حرام تو نہیں لیکن یہ میرے علاقے میں نہیں پائی جاتی، اس لیے میں نے احتراز کیا۔“ تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے کھینچ کر اپنے سامنے رکھ لیا اور کھا گئے اور رسول اللہ ﷺ انہیں دیکھ رہے تھے۔