السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الضب باب: سانڈے (ضب) کے متعلق کیا مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي بِنَيْسَابُورَ قَالَا: أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ: أَرَأَيْتَ الْحَسَنَ حِينَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ سَنَتَيْنِ، فَمَا سَمِعْتُهُ ⦗٥٤٢⦘ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُونَ عِنْدَهُ ضَبًّا فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، فَنَادَتْهُمُ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ضَبٌّ، فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ بِحَرَامٍ وَلَا بَأْسَ بِهِ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِ قَوْمِي ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي زَكَرِيَّا " أَوْ لَا بَأْسَ بِهِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَغَيْرِهِ عَنْ شُعْبَةَ.توبہ عنبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شعبی رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: کیا تم نے حضرت حسن رحمہ اللہ کو دیکھا جب وہ نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہیں؟ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تقریباً دو سال بیٹھا رہا، میں نے انہیں نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا، سوائے اس کے کہ ایک دن انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آپ ﷺ کے پاس بیٹھ کر گوہ کھا رہے تھے، جن میں سعد بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ نبی ﷺ کی کسی بیوی نے آواز دی کہ یہ گوہ ہے تو لوگ کھانے سے رک گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کھاؤ، یہ حرام نہیں ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے۔“