السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الأرنب باب: خرگوش کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19403
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي خَالِدَ بْنَ ⦗٥٤٠⦘ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ بِالصِّفَاحِ، مَكَانٌ بِمَكَّةَ، وَأَنَّ رَجُلًا جَاءَنَا بِأَرْنَبٍ قَدْ صَادَهَا فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو مَا تَقُولُ؟ قَالَ: قَدْ جِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَلَمْ يَنْهَ عَنْ أَكْلِهَا. وَزَعَمَ أَنَّهَا تَحِيضُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما مکہ میں صفا نامی جگہ پر تھے، ایک شخص خرگوش کا شکار کر کے لایا، اس نے کہا: ”اے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا تھا، آپ ﷺ کے پاس خرگوش لایا گیا، لیکن آپ ﷺ نے کھایا نہیں اور کھانے سے منع بھی نہیں کیا اور آپ ﷺ کا گمان تھا کہ اس کو حیض آتا ہے۔