السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في حمار الوحش وما أكلته العرب في غير ضرورة باب: جنگلی گدھے کے متعلق کیا مروی ہے، اور ان جانوروں کا بیان جنہیں اہلِ عرب بغیر کسی مجبوری کے کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 19404
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي قَوْمٍ مُحْرِمِينَ فَعَرَضَ لَهُمْ حِمَارُ وَحْشٍ فَلَمْ يُؤْذِنُوهُ حَتَّى أَبْصَرَهُ هُوَ فَاخْتَلَسَ مِنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَوْطًا فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَصَرَعَهُ وَأَتَاهُمْ بِهِ فَأَكَلُوهُ، فَلَقُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: " هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ؟ " فَقَالُوا: لَا. فَقَالَ: " كُلُوا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ محرم لوگوں کے ساتھ تھے کہ جنگلی گدھا سامنے آیا۔ کسی نے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو اطلاع نہ دی یہاں تک کہ انہوں نے خود دیکھ لیا۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کسی سے کوڑا چھین کر جنگلی گدھے کا شکار کر کے ان کے پاس لے آئے تو انہوں نے کھا لیا۔ جب نبی کریم ﷺ سے ملاقات ہوئی تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم میں سے کسی نے اس کی جانب اشارہ کیا تھا؟“ تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب کھالو۔“