السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في الأرنب باب: خرگوش کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19402
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي ذَرٍّ وَعَمَّارٍ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ: أَتَذْكُرُونَ يَوْمَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا فأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِأَرْنَبٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَأَمَرَنَا بِأَكْلِهَا وَلَمْ يَأْكُلْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: " ادْنُهُ اطْعَمْ ". قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ الْحَوْتَكِيَّةِ فِي إِسْنَادِهِ.حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوذر، عمار اور ابودرداء رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا تمہیں یاد ہے جس وقت فلاں جگہ پر ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس خرگوش لے کر آیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس پر خون کو دیکھا ہے تو آپ ﷺ نے ہمیں کھانے کا حکم دیا اور خود نہ کھایا؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر آپ ﷺ نے دیہاتی سے کہا: ”قریب ہو کر کھاؤ“ تو اس نے کہا: میں روزے سے ہوں۔