السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: لا يبيع من أضحيته شيئا، ولا يعطي أجر الجازر منها باب: کوئی شخص اپنی قربانی میں سے کچھ فروخت نہ کرے، اور نہ ہی اس میں سے قصاب کی اجرت دے۔
حدیث نمبر: 19231
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَرَأَيْتَ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ؟ مَا الْقَانِعُ وَالْمُعْتَرُّ؟ قَالَ: أَمَّا الْقَانِعُ: فَالْقَانِعُ بِمَا أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ فِي بَيْتِهِ، وَالْمُعْتَرُّ: الَّذِي يَعْتَرِيكَ.حافظ ثناء اللہ
قابوس بن ابی ظبیان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: قانع اور معتر کون ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: «الْقَانِعُ» ”قانع“ وہ شخص ہے جو اس چیز پر قناعت کرے جو آپ اس کے گھر بھیج دیں، اور «الْمُعْتَرُّ» ”معتر“ وہ ہے جو تمہارے پاس آئے۔