السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: لا يبيع من أضحيته شيئا، ولا يعطي أجر الجازر منها باب: کوئی شخص اپنی قربانی میں سے کچھ فروخت نہ کرے، اور نہ ہی اس میں سے قصاب کی اجرت دے۔
حدیث نمبر: 19232
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بَدَنَةٍ وَأَنْ أَقْسِمَ جُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ: " نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي خَيْثَمَةَ: وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ أَجْرَ الْجَازِرِ مِنْهَا، قَالَ: " نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے قربانی کے ایک اونٹ پر (نگرانی کے لیے) کھڑے رہنے اور اس کے چمڑے اور جھول تقسیم کرنے کا حکم دیا، اور مجھے حکم دیا کہ قصاب کو اس میں سے کچھ نہ دوں، اور فرمایا: ”ہم اسے اپنے پاس سے (مزدوری) دیں گے۔“
(ب) ابو خیثمہ کی روایت میں ہے کہ (آپ ﷺ نے حکم دیا کہ) اس کا گوشت، چمڑے اور جھول صدقہ کر دوں اور قصاب کی مزدوری اس میں سے نہ دوں، اور فرمایا: ”ہم اسے اپنے پاس سے دیں گے۔“