السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: إطعام البائس الفقير وإطعام القانع والمعتر، وما جاء في تفسيرهم باب: خستہ حال فقیر، نیز قانع (سوال نہ کرنے والے محتاج) اور معتر (بن مانگے سامنے آنے والے) کو کھلانے اور ان کی تفسیر کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19229
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: الْقَانِعُ السَّائِلُ.حافظ ثناء اللہ
ابو نجیح حضرت مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾ [سورة الحج: 28] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ «الْبَائِسُ» ”ایسا شخص ہے کہ جب بھی سوال کرے تو اپنے ہاتھ سے“ اور «الْقَانِعُ» ”جو اپنے پڑوسی کی قربانی کے گوشت کا لالچ رکھے“، اور «الْمُعْتَرُّ» ”جو خود تو آپ کے پاس آجاتا ہے لیکن اپنی ضرورت پیش نہیں کرتا۔“