السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرخصة في الأكل من لحوم الضحايا والإطعام والادخار باب: قربانی کے گوشت میں سے خود کھانے، دوسروں کو کھلانے اور ذخیرہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19219
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ يَسَعَكُمْ، جَاءَ اللهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا، أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ". قَوْلُهُ: وَاتَّجِرُوا صِلَةُ ائْتَجِرُوا، عَلَى وَزْنِ افْتَعِلُوا، يُرِيدُ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُبْتَغَى أَجْرُهَا، وَلَيْسَ مِنْ بَابِ التِّجَارَةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عمرہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ہم قربانی کا گوشت نمک لگا کر خشک کر لیتی تھیں، جب ہم نبی ﷺ کے پاس مدینہ میں (وہ گوشت) لے کر آئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی کا گوشت صرف تین دن تک کھاؤ۔“ لیکن یہ لازم نہیں ہے، آپ ﷺ (اس کے ذریعے) دوسروں کو کھلانے کا ارادہ کرتے تھے۔