السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرخصة في الأكل من لحوم الضحايا والإطعام والادخار باب: قربانی کے گوشت میں سے خود کھانے، دوسروں کو کھلانے اور ذخیرہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 19218
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَضْحَى: " مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَالِثَةٍ شَيْءٌ ". فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ نَفْعَلُ فِي هَذَا الْعَامِ كَمَا فَعَلْنَا فِي الْعَامِ الْمَاضِي؟ فَقَالَ: " لَا، كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ فِيهِ شِدَّةٌ - أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا - فَأَرَدْتُ أَنْ تَقْسِمُوا فِي النَّاسِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَقَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ يَفْشُوَ فِيهِمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن فرمایا: ”جس نے قربانی کی تو تیسرے دن کی صبح کے بعد اس کے گھر کوئی چیز موجود نہ ہو۔“ جب دوسرا سال آیا تو ہم نے آپ ﷺ سے پوچھا: کیا پہلے سال کی طرح ہی کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، کھاؤ، کھلاؤ، ذخیرہ کرو؛ کیونکہ اس سال تنگ دستی تھی“ یا اس کے مشابہ کوئی کلمہ کہا ”تو میں نے چاہا کہ تم لوگوں کے درمیان گوشت تقسیم کرو۔“
(ب) ابو عاصم رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ”میں لوگوں میں گوشت کو عام دیکھنا چاہتا تھا۔“