السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: النسيكة يذبحها غير مالكها باب: قربانی کے جانور کو اس کے مالک کے علاوہ کسی اور کا ذبح کرنا۔
حدیث نمبر: 19168
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: لَا يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَكَ إِلَّا مُسْلِمٌ، وَإِذَا ذَبَحْتَ فَقُلْ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ فُلَانٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ ذَبْحَهَا مُشْرِكٌ تَحِلُّ ذَكَاتُهُ أَجْزَأَتْ مَعَ كَرَاهِيَتِي لَهَا. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا لِمَا مَضَى فِي إِحْلَالِ ذَبَائِحِهِمْ، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ لَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا.حافظ ثناء اللہ
قابوس بن ابی ظبیان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آپ کی قربانی صرف مسلمان ذبح کرے اور جب ذبح کرے تو یہ کہہ دینا: «بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ» ”شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ! تیری عطا ہے اور تیرے لیے ہے۔“ اے اللہ! فلاں کی جانب سے قبول فرما۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مشرک کا قربانی کرنا جائز ہے اگرچہ میں ناپسند کرتا ہوں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس وجہ سے کہ ان کا ذبیحہ بھی تو حلال ہے۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔