کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قربانی کے جانور کو اس کے مالک کے علاوہ کسی اور کا ذبح کرنا۔
حدیث نمبر: 19163
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ بِيَدِهِ، وَنَحَرَ بَعْضَهُ غَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ کفایت کر جائے گا، کیونکہ بعض قربانیاں نبی ﷺ نے خود نحر کیں اور بعض دوسروں سے نحر کروائیں۔
حدیث نمبر: 19163
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ بِيَدِهِ، وَنَحَرَ بَعْضَهُ غَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض قربانیاں اپنے ہاتھ سے نحر فرمائیں اور بعض قربانیاں دوسروں سے نحر کروائیں۔
حدیث نمبر: 19164
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: ضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأُهْدِيَ هَدْيًا وَإِنَّمَا نَحَرَهُ مَنْ أَهْدَاهُ مَعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی عورتوں کی جانب سے گائے قربان کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کو قربانی تحفہ میں ملی تو تحفہ دینے والے نے آپ ﷺ کے ساتھ مل کر نحر کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کو قربانی تحفہ میں ملی تو تحفہ دینے والے نے آپ ﷺ کے ساتھ مل کر نحر کیا۔
حدیث نمبر: 19165
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ ثُمَّ يَقُولُ: " إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهَا مَوْتًا فَانْحَرْهَا، ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا وَلَا تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رِفْقَتِكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: غَيْرَ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَذْبَحَ مِنَ النَّسَائِكِ مُشْرِكٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ذویب ابو قبیصہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اس کے ساتھ اونٹوں کی قربانی روانہ کرتے اور فرماتے: ”اگر کوئی قربانی تھک جائے اور آپ کو اس کے ہلاک ہونے کا خوف ہو تو نحر کر دینا، پھر اس کے خون میں جوتا تر کر کے اس کے پہلو پر مارنا لیکن خود اور اپنے ساتھیوں کو نہ کھلانا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی مشرک آپ کی عورتوں کی قربانی نہ کرے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی مشرک آپ کی عورتوں کی قربانی نہ کرے۔
حدیث نمبر: 19166
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَذْبَحُ نَسِيكَةَ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”مسلمان کی قربانی یہودی یا عیسائی ذبح نہ کرے۔“
حدیث نمبر: 19167
وَبِإِسْنَادِهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي قَابُوسُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَذْبَحَ نَسِيكَةَ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
ابو ظبیان رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ناپسند کرتے تھے کہ کوئی یہودی یا عیسائی مسلمان کی قربانی ذبح کرے۔
حدیث نمبر: 19168
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: لَا يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَكَ إِلَّا مُسْلِمٌ، وَإِذَا ذَبَحْتَ فَقُلْ: بِسْمِ اللهِ، اللهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، اللهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ فُلَانٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ ذَبْحَهَا مُشْرِكٌ تَحِلُّ ذَكَاتُهُ أَجْزَأَتْ مَعَ كَرَاهِيَتِي لَهَا. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا لِمَا مَضَى فِي إِحْلَالِ ذَبَائِحِهِمْ، وَرُوِّينَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ لَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا.
حافظ ثناء اللہ
قابوس بن ابی ظبیان اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آپ کی قربانی صرف مسلمان ذبح کرے اور جب ذبح کرے تو یہ کہہ دینا: «بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ» ”شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ! تیری عطا ہے اور تیرے لیے ہے۔“ اے اللہ! فلاں کی جانب سے قبول فرما۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مشرک کا قربانی کرنا جائز ہے اگرچہ میں ناپسند کرتا ہوں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس وجہ سے کہ ان کا ذبیحہ بھی تو حلال ہے۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مشرک کا قربانی کرنا جائز ہے اگرچہ میں ناپسند کرتا ہوں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس وجہ سے کہ ان کا ذبیحہ بھی تو حلال ہے۔
(ب) عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔