السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ذبائح نصارى العرب باب: عرب عیسائیوں کے ذبیحے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19169
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعْدِ الْفَلَحَةِ مَوْلَى عُمَرَ أَوِ ابْنِ سَعْدِ الْفَلَحَةِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَا نَصَارَى الْعَرَبِ بِأَهْلِ كِتَابٍ، وَمَا تَحِلُّ لَنَا ذَبَائِحُهُمْ، وَمَا أَنَا بِتَارِكِهِمْ حَتَّى يُسْلِمُوا أَوْ أَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ.حافظ ثناء اللہ
سعد فلجہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام یا ابن سعد فلجہ سے منقول ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عرب کے عیسائی اہل کتاب نہیں اور نہ ہی ان کا ذبیحہ حلال ہے اور میں ان کو اسلام قبول کرنے تک نہ چھوڑوں گا یا ان کی گردنیں اتار دوں گا۔