حدیث نمبر: 19151
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الذَّبِيحَةِ بِالْعُودِ، فَقَالَ: كُلُّ مَا أَفْرَى الْأَوْدَاجَ غَيْرَ مُثَرِّدٍ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ أَبُو زِيَادٍ الْكِلَابِيُّ: التَّثْرِيدُ: أَنْ تُذْبَحَ الذَّبِيحَةُ بِشَيْءٍ لَا حَدَّ لَهُ فَلَا يُنْهِرَ الدَّمَ وَلَا يُسِيلُهُ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَوْلُهُ: مَا أَفْرَى الْأَوْدَاجَ يَعْنِي: مَا شَقَّقَهَا وَأَسَالَ مِنْهَا الدَّمَ. ⦗٤٧٤⦘ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَدْ تَأَوَّلَ بَعْضُ النَّاسِ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ قَوْلَهُ: كُلْ مِنَ الْأَكْلِ، وَهَذَا خَطَأٌ وَلَوْ أَرَادَ مِنَ الْأَكْلِ لَوَقَعَ الْمَعْنَى عَلَى الشَّفْرَةِ؛ لِأَنَّ الشَّفْرَةَ هِيَ الَّتِي تُفْرِي، وَإِنَّمَا مَعْنَى الْحَدِيثِ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ أَفْرَى الْأَوْدَاجَ مِنْ عُودٍ أَوْ حَجَرٍ بَعْدَ أَنْ يُفْرِيَهَا فَهُوَ ذَكِيٌّ.
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ لکڑی سے ذبح کرنے کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہر وہ چیز جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے لیکن ایسی چیز نہ ہو جو خون نہ بہائے۔
اور عبید کہتے ہیں: تثرید یعنی ایسا جانور جس کو ایسی چیز سے ذبح کیا جائے جو خون نہ بہائے، «مَا أَفْرَى الْأَوْدَاجَ» ”ایسی چیز جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے۔“ ابو عبید کہتے ہیں: بعض لوگ کہتے ہیں اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ کھا لیں لیکن یہ درست نہیں ہے بلکہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جو چیز لکڑی یا پتھر رگوں کو کاٹ دے تو اس کو ذبح کے حکم میں مانا جائے گا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19151
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»