السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء في طعام أهل الكتاب باب: اہل کتاب کے کھانے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19152
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ} [المائدة: 5]. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ طَعَامُهُمْ عِنْدَ بَعْضِ مَنْ حَفِظْنَا عَنْهُ مِنْ أَهْلِ التَّفْسِيرِ ذَبَائِحَهُمْ، وَكَانَتِ الْآثَارُ تَدُلُّ عَلَى إِحْلَالِ ذَبَائِحِهِمْ..حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ﴾ ”اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ان کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے۔“ [سورة المائدة: 5]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اہل تفسیر میں سے جن سے ہم نے (علم) محفوظ کیا ہے ان میں سے بعض کے نزدیک ان کے کھانے سے مراد ان کے ذبیحے ہیں، اور آثار بھی ان کے ذبیحوں کے حلال ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔“...
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: طَعَامُهُمْ ذَبَائِحُهُمْ. وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ وَمَكْحُولٍ.حافظ ثناء اللہ
علی بن ابی طلحہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے کھانے سے مراد ان کے ذبح شدہ جانور ہیں۔