السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الذكاة بما أنهر الدم وفرى الأوداج والمذبح ولم يثرد، إلا الظفر والسن باب: اس چیز سے ذبح کرنے کا بیان جو خون بہا دے، رگیں اور گلا کاٹ دے اور کچلے نہیں، سوائے ناخن اور دانت کے۔
حدیث نمبر: 19149
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ فَأَخَذَهَا الْمَوْتُ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يَنْحَرُهَا بِهِ، فَأَخَذَ وَتِدًا فَوَجَأَ بِهِ فِي لَبَّتِهَا حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهَا، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ بنو حارثہ کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ احد کی پہاڑیوں میں سے کسی ایک پہاڑی پر اونٹنیاں چرا رہا تھا۔ اس نے ایک اونٹنی کو مرتے دیکھا تو نحر کے لیے کوئی چیز نہ پائی تو کمان پکڑ کر اونٹنی کے لبہ پر دے ماری، جس سے خون بہہ گیا۔ پھر نبی ﷺ کو آ کر بتایا تو آپ ﷺ نے اس کے کھانے کا حکم دے دیا۔