السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الذكاة بما أنهر الدم وفرى الأوداج والمذبح ولم يثرد، إلا الظفر والسن باب: اس چیز سے ذبح کرنے کا بیان جو خون بہا دے، رگیں اور گلا کاٹ دے اور کچلے نہیں، سوائے ناخن اور دانت کے۔
حدیث نمبر: 19148
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُخْبِرُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ فَرَأَتْ شَاةً مِنْ غَنَمِهَا بِهَا مَوْتٌ فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: لَا تَأْكُلُوا مِنْهَا حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ أَوْ قَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَنْ يَسْأَلُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ أَوْ رَسُولُهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ جَارِيَةً لَنَا كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ فَأَبْصَرَتْ شَاةً مِنْ غَنَمِهَا بِهَا مَوْتٌ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ.حافظ ثناء اللہ
ابن کعب بن مالک نے اپنے والد سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ ان کی ایک لونڈی سلع پہاڑ پر بکریاں چراتی تھی، جب اس نے ایک بکری کو مرتے دیکھا تو پتھر توڑ کر اسے ذبح کر دیا، تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: اتنی دیر نہ کھانا جتنی دیر میں نبی ﷺ سے نہ پوچھ لوں، تو انہوں نے نبی ﷺ کی جانب کسی کو پوچھنے کے لیے بھیجا، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہماری ایک لونڈی سلع پہاڑ پر بکریاں چرا رہی تھی، جب اس نے ایک بکری کو مرتے دیکھا تو پتھر توڑ کر اسے ذبح کر ڈالا، تو نبی ﷺ نے اس بکری کو کھانے کا حکم دے دیا۔