السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يستحب أن يضحى به من الغنم باب: بکریوں اور بھیڑوں میں سے کن کی قربانی کرنا مستحب ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 19092
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ⦗٤٥٩⦘ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أبي اللَّيْثِ حَدَّثَهُمْ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: الثَّنِيُّ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنَ الْهَرِمِ، اللهُ أَحَقُّ بِالْفَتَاءِ وَالْكَرَمِ، أَحَبُّهُ إِلِيَّ مِنَ الثَّنِيِّ أَحَبُّهُ إِلَى أَنْ أُضَحِّيَ بِهِ. هَذَا مَوْقُوفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو دانت والا جانور مجھے بوڑھے جانور سے زیادہ محبوب ہے، اللہ تعالیٰ جوانی اور عمدگی کا زیادہ حق دار ہے، اور دو دانت والے جانوروں میں سے جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو اسی کی قربانی کرنا مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔