السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما يستحب أن يضحى به من الغنم باب: بکریوں اور بھیڑوں میں سے کن کی قربانی کرنا مستحب ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 19093
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ جُنَادَةَ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللهُ أَحَقُّ بِالْفَتَاءِ وَالْوَفَاءِ، اشْتَرِهَا جَذَعَةً سَمِينَةً فَأَنْسِكْ بِهَا عَنْكَ ". يَعْنِي ضَحِّ.حافظ ثناء اللہ
سنان بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت حکم دینے اور وفا کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔“ آپ ﷺ موٹا تازہ جزعہ خرید کر اپنی طرف سے قربانی کریں۔