حدیث نمبر: 1907
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ثنا سُلَيْمَانُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: " لَا يَكُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فَيْءٍ فَيَتَوَضَّأُ إِنْ وَجَدَ مَاءً وَإِلَّا يَتَيَمَّمُ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يُقِيمُهَا إِلَّا أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَا يُرَى طَرَفَاهُ " أَوْ قَالَ: طَرْفُهُ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”کوئی شخص کسی چٹیل زمین میں وضو کرتا ہے، اگر اس نے پانی پا لیا تو درست، ورنہ وہ تیمم کرتا ہے اور نماز کا اعلان کرتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے، تو گویا اس نے اللہ کے ایسے لشکروں کی امامت کرائی ہے جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جا سکتا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1907
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»