السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: سنة الأذان والإقامة للمكتوبة في حالتي الانفراد والجماعة باب: فرض نماز کے لیے انفراد اور جماعت دونوں حالتوں میں اذان اور اقامت مسنون ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1906
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِبَغْدَادَ فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: " لَا يَكُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فَيْءٍ فَيَتَوَضَّأُ أَوْ يَتَيَمَّمُ صَعِيدًا طَيِّبًا فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يُقِيمُهَا فَيُصَلِّي - وَفِي حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ فَيُقِيمُهَا - إِلَّا أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللهِ مَنْ لَا يُرَى قُطْرَاهُ " أَوْ قَالَ: طَرَفَاهُ شَكَّ التَّيْمِيُّ ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان سے روایت ہے کہ کوئی شخص کسی سائے والی زمین (جنگل وغیرہ) میں وضو کرتا ہے یا پاک مٹی سے تیمم کرتا ہے، پھر وہ نماز کے لیے اذان دیتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے: ”وہ اقامت کہتا ہے تو اللہ کے لشکروں کی امامت کراتا ہے، جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جا سکتا۔“