کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: فرض نماز کے لیے انفراد اور جماعت دونوں حالتوں میں اذان اور اقامت مسنون ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1902
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ الصُّوفِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ثنا الْبَغَوِيُّ ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ وَكَانَ يَسْتَمِعُ الْأَذَانَ فَإِنْ سَمِعَ الْأَذَانَ أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ قَالَ: فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى الْفِطْرَةِ " ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ " قَالَ: فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزَى أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت حملہ کرتے تھے جب فجر طلوع ہو جاتی اور آپ ﷺ اذان سنتے تھے، اگر اذان سنتے تو رک جاتے اور اگر نہ سنتے تو حملہ کر دیتے؛ آپ ﷺ نے ایک شخص کو سنا جو کہہ رہا تھا: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ فطرت پر ہے“، پھر اس نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آگ سے نکل گیا“؛ صحابہ نے دیکھا تو وہ ایک چرواہا تھا اور الگ بیٹھا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 1903
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَكَانَ يَسْتَمِعُ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى الْفِطْرَةِ " فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَالَ: " خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ " ⦗٥٩٦⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز فجر کے وقت حملہ کرتے تھے، آپ ﷺ سنتے تھے، اگر اذان کی آواز سن لیتے تو رک جاتے اور اگر نہ سنتے تو حملہ کر دیتے، آپ ﷺ نے ایک دن آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا تھا: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے“، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ فطرت پر ہے“، اس نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو آگ سے نکل گیا“۔
حدیث نمبر: 1904
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ثنا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعْنَا مُنَادِيًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى الْفِطْرَةِ " فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ مِنَ النَّارِ " قَالَ: فَابْتَدَرْنَاهُ فَإِذَا صَاحِبُ مَاشِيَةٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، اچانک ہم نے اعلان کرنے والے کو سنا جو کہہ رہا تھا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ»، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فطرت پر ہے۔“ اس نے کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ»، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آگ سے نکل گیا۔“ فرماتے ہیں: ہم نے اس کی طرف جلدی کی تو وہ مویشی والا تھا۔ نماز کا وقت ہو گیا تو اس نے آواز دی۔
حدیث نمبر: 1905
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ثنا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ وَيُصَلِّي فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ لِلصَّلَاةِ يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ جَنَّتِي ".
حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”تیرا رب بکریوں کے اس چرواہے سے جو پہاڑ کی بلند چوٹی پر ہو تعجب کرتا ہے، جو نماز کی اذان دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میرے اس بندے کی طرف دیکھو، یہ اذان دیتا ہے اور نماز کی اقامت کہتا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا اور اس کو جنت میں داخل کر دیا۔“”
حدیث نمبر: 1906
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِبَغْدَادَ فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: " لَا يَكُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فَيْءٍ فَيَتَوَضَّأُ أَوْ يَتَيَمَّمُ صَعِيدًا طَيِّبًا فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يُقِيمُهَا فَيُصَلِّي - وَفِي حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ فَيُقِيمُهَا - إِلَّا أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللهِ مَنْ لَا يُرَى قُطْرَاهُ " أَوْ قَالَ: طَرَفَاهُ شَكَّ التَّيْمِيُّ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان سے روایت ہے کہ کوئی شخص کسی سائے والی زمین (جنگل وغیرہ) میں وضو کرتا ہے یا پاک مٹی سے تیمم کرتا ہے، پھر وہ نماز کے لیے اذان دیتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے: ”وہ اقامت کہتا ہے تو اللہ کے لشکروں کی امامت کراتا ہے، جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جا سکتا۔“
حدیث نمبر: 1907
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ثنا سُلَيْمَانُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: " لَا يَكُونُ رَجُلٌ بِأَرْضِ فَيْءٍ فَيَتَوَضَّأُ إِنْ وَجَدَ مَاءً وَإِلَّا يَتَيَمَّمُ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يُقِيمُهَا إِلَّا أَمَّ مِنْ جُنُودِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَا يُرَى طَرَفَاهُ " أَوْ قَالَ: طَرْفُهُ هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”کوئی شخص کسی چٹیل زمین میں وضو کرتا ہے، اگر اس نے پانی پا لیا تو درست، ورنہ وہ تیمم کرتا ہے اور نماز کا اعلان کرتا ہے، پھر اقامت کہتا ہے، تو گویا اس نے اللہ کے ایسے لشکروں کی امامت کرائی ہے جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جا سکتا۔“
حدیث نمبر: 1908
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٩٧⦘ عَبْدِ اللهِ الْبَيْرُوتِيُّ بِبَيْرُوتَ، ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيَّ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ النَّضْرِ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ غُصْنٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ بِأَرْضِ فَيْءٍ فَيُؤَذِّنُ بِحَضْرَةِ الصَّلَاةِ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ فَيُصَلِّي إِلَّا صَفَّ خَلْفَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَا لَا يُرَى قُطْرَاهُ يَرْكَعُونَ بِرُكُوعِهِ وَيَسْجُدُونَ بِسُجُودِهِ وَيُؤَمِّنُونَ عَلَى دُعَائِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص سائے والی زمین میں نماز کے وقت اذان دیتا ہے اور نماز کی اقامت کہتا ہے، وہ نماز پڑھتا ہے مگر اس کے پیچھے فرشتے صف بنا لیتے ہیں جن کے کناروں کو دیکھا نہیں جا سکتا، وہ اس کے رکوع کے ساتھ رکوع کرتے ہیں اور اس کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں اور اس کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔“