السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرجل يضحي عن نفسه وعن أهل بيته باب: آدمی کا اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے قربانی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19050
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشَدِّ السُّلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْهَمًا، فَاشْتَرَيْنَا أُضْحِيَّةً بِسَبْعَةِ دَرَاهِمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ أَغْلَيْنَا بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا وَأَنْفَسُهَا ". فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَأْخُذُ بِيَدٍ وَرَجُلًا بِيَدٍ وَرَجُلًا بِرِجْلٍ وَرَجُلًا بِقَرْنٍ وَرَجُلًا بِقَرْنٍ وَذَبَحَهَا السَّابِعُ، وَكَبَّرْنَا عَلَيْهَا جَمِيعًا.حافظ ثناء اللہ
ابو اشد سلمی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات میں سے ساتواں تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم میں سے ہر ایک نے ایک ایک درہم جمع کیا اور ہم نے سات درہم میں ایک قربانی خریدی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے اسے مہنگا خریدا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زیادہ قیمت والی اور عمدہ قربانیاں افضل ہیں۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ایک آدمی ایک ہاتھ پکڑے، ایک آدمی دوسرا ہاتھ، ایک آدمی پاؤں، ایک آدمی ایک سینگ اور ایک آدمی دوسرا سینگ پکڑے اور ساتویں نے اسے ذبح کیا، اور ہم سب نے اس پر تکبیر کہی۔