السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الرجل يضحي عن نفسه وعن أهل بيته باب: آدمی کا اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے قربانی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 19049
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو الْعَقَدِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، فَإِذَا خَطَبَ وَصَلَّى قَامَ فِي مُصَلَّاهُ فَذَبَحَ أَحَدَ الْكَبْشَيْنِ هُوَ بِنَفْسِهِ بِالْحَرْبَةِ وَيَقُولُ: " هَذَا عَنْ أُمَّتِي جَمِيعًا مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ "، ثُمَّ أَتَى بِالْآخَرِ فَذَبَحَهُ قَالَ: " اللهُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ "، ثُمَّ يُطْعِمُهَا جَمِيعًا لِلْمَسَاكِينِ وَيَأْكُلُ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْهُمَا، فَمَكَثْنَا سِنِينَ قَدْ كَفَى اللهُ الْمُؤْنَةَ وَالْغُرْمَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ يُضَحِّي.حافظ ثناء اللہ
رسول اللہ ﷺ کے غلام ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب قربانی خریدو تو دو موٹے تازے، چتکبرے، سینگوں والے، مینڈھے خریدو۔“ آپ ﷺ نے نماز و خطبہ سے فارغ ہو کر بذاتِ خود ایک نیزے سے ذبح کر دیا اور فرمایا: ”یہ میری تمام امت کی جانب سے ہے، جس نے توحید کا اقرار اور میرے اسلام کو پہنچانے کی تصدیق کی۔“ پھر دوسری قربانی کو ذبح کر دیا اور فرمایا: ”یہ محمد اور آلِ محمد کی جانب سے ہے۔“ پھر خود اور گھر والوں اور مساکین کو کھلا دیتے، پھر ہم دو سال رکے رہے تو اللہ نے مشقت اور قرض ختم فرما دیا تو بنو ہاشم میں سے کسی نے بھی قربانی نہ کی۔